مہنگی بجلی سے 150 ٹیکسٹائل ملیں بند، اپٹما کا احتجاج

مہنگی بجلی کے باعث 150 ٹیکسٹائل ملیں بند ہو چکی ہیں، اپٹما نے صنعتوں کی چابیاں حکومت کو دینے کا اعلان کیا۔ چیئرمین کامران ارشد نے معاشی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
مہنگی بجلی سے 150 ٹیکسٹائل ملیں بند، اپٹما کا احتجاج

لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین کامران ارشد نے کہا ہے کہ مہنگی بجلی کے باعث 150 ٹیکسٹائل ملیں بند ہو چکی ہیں، جس کے سبب کاروبار جاری رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صنعتوں کی چابیاں حکومت کے حوالے کرنے جا رہے ہیں۔

اپٹما ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس کے دوران کامران ارشد نے حکومت سے معاشی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی میں گاڑیاں بانٹنے اور سڑکیں بنانے کے بجائے عوام کو روزگار فراہم کیا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دسمبر میں مجموعی ایکسپورٹس 19.55 فیصد کم ہوئی ہیں جبکہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹس میں 8 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس صورت حال میں صنعتوں کی چابیاں حکومت کے حوالے کرنے جا رہے ہیں تاکہ وہ خود صنعتیں چلا سکے۔

اس موقع پر چیئرمین اپٹما نارتھ زون اسد شفیع نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر نے بھی تسلیم کیا ہے کہ 350 ارب روپے کی کراس سبسڈی واپس لی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر افراد کی بجلی چوری کا بوجھ صنعتوں پر نہ ڈالا جائے اور پاور منسٹری کی حساب کتاب میں غلطیاں موجود ہیں۔

اپٹما رہنماؤں نے انتباہ دیا کہ اگر صنعت کو قومی ترجیح نہ بنایا گیا تو اگلے 6 ماہ میں ایکسپورٹ مزید کم ہو سکتی ہے، جبکہ امریکا اور چین کی تجارتی جنگ کا فائدہ اٹھانا چاہیے تھا، جو نہیں ہو سکا۔

دیگر متعلقہ خبریں