راولپنڈی میں فلور ملز ایسوسی ایشن نے پابندیاں جاری رہنے پر ملنگ انڈسٹری بند ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
راولپنڈی: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ راولپنڈی ڈویژن میں آٹا ملنگ انڈسٹری تباہی کے دہانے پر ہے، اور اگر بین الاضلاعی و بین الصوبائی پابندیاں جاری رہیں تو ملیں بند ہو سکتی ہیں۔
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ سرکاری گندم کی تقسیم تمام فلور ملز میں مساوی بنیادوں پر ہو، کیونکہ مہنگی نجی گندم خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جبکہ آٹا سرکاری نرخ سے کم قیمت پر خریدا جا رہا ہے۔
اجلاس کی صدارت سرپرست اعلیٰ طارق صادق نے کی، جس میں کہا گیا کہ پنجاب حکومت کی گندم ڈی ریگولیشن پالیسی کے باوجود غیر آئینی پابندیاں عائد ہیں، جو صنعت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
راولپنڈی نہ زرعی علاقہ ہے نہ صنعتی، فلور ملز کی بندش سے بے روزگاری بڑھے گی۔ پابندیاں خیبر پختونخوا کی ملز کو فائدہ پہنچا رہی ہیں، وہاں کی ملز کے بجلی بلوں میں اضافہ اس کا ثبوت ہے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پابندیاں آٹے کے بحران کو روکنے کے بجائے اسے مزید بڑھا رہی ہیں، ان کے خاتمے سے ممکنہ بحران خود بخود ختم ہو سکتا ہے۔















