سابق امریکی سفیر کے مطابق ٹرمپ آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکا کے سابق سفیر ڈین شاپیرو نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ دنوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے واشنگٹن اور مشرق وسطیٰ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ڈین شاپیرو، جو سابق صدر براک اوباما کے دور میں اسرائیل میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں، نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جن میں ایران میں نئی قیادت کی بات کی گئی، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران میں جاری مظاہرے اور امریکی بحری بیڑے کی متوقع تعیناتی صورتحال کو مزید حساس بنا رہی ہے۔
شاپیرو کے مطابق ممکنہ کارروائی کو ایرانی مظاہرین کی حمایت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کیا گیا تو اس سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا امکان کم ہے، بلکہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو مزید طاقتور بنا سکتا ہے۔
سابق سفیر نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی کارروائی خطے میں عدم استحکام میں اضافہ کر سکتی ہے اور اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
حال ہی میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ سابق صدر ٹرمپ کے سخت بیانات اور عسکری سرگرمیوں سے متعلق خبروں نے سفارتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔














