پاکستان میں کچرے کا بحران، ماہرین کی تجاویز اور اقدامات

پاکستان میں کچرے کا بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے، ماہرین نے کچرے کو توانائی اور روزگار میں تبدیل کرنے کی تجاویز پیش کی ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پشاور میں خواجہ سرا نے شہری کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیا، گرفتار

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں کچرے کا بحران سنگین ہو چکا ہے جو ماحول اور عوامی صحت کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ بڑے شہروں میں ابلتے کوڑے دان، سڑکوں پر بکھرا کچرا اور بند نالیاں معمول بن چکی ہیں۔ ملک ہر سال تقریباً 4 کروڑ 96 لاکھ ٹن کچرا پیدا کرتا ہے اور شہری آبادی کے اضافے کے ساتھ یہ مقدار بڑھ رہی ہے۔

مقامی ادارے صرف 60 سے 70 فیصد کچرا جمع کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں جبکہ باقی کچرا سڑکوں، نالوں اور خالی پلاٹوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ کھلے عام کچرا جلانے سے نکلنے والی زہریلی گیسیں اسموگ کی شدت بڑھاتی ہیں جو سانس اور دل کے امراض میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سویڈن اور جرمنی جیسے ممالک نے درست پالیسیوں کے ذریعے کچرا ایک وسیلہ بننے کی مثال قائم کی ہے۔ پاکستان میں بھی کچھ اقدامات کیے گئے ہیں، جیسے بڑے شہروں میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنیاں، لیکن ناقص منصوبہ بندی کے باعث یہ کوششیں دیرپا نتائج نہ دے سکیں۔

ماہرین کے مطابق گھروں، دفاتر اور مارکیٹوں میں کچرا الگ کرنے جیسے سادہ اقدامات ری سائیکلنگ کو آسان بنا سکتے ہیں اور روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس کے ذریعے بجلی کی پیداوار ممکن ہے، جو کہ موجودہ بحران کا حل بن سکتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں