بلوچستان میں خشک سالی، صوبہ شدید بحران کا شکار

بلوچستان میں خشک سالی نے زندگی کو بقا کی جدوجہد بنا دیا ہے۔ گوادر کے علاقے کلانچ کی رہائشی فاطمہ روزانہ اجتماعی واٹر ٹینک تک جاتی ہیں، مگر اکثر خالی ہاتھ لوٹتی ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
بلوچستان میں خشک سالی، صوبہ شدید بحران کا شکار

کوئٹہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بلوچستان میں 2024-2025 کی خشک سالی نے روزمرہ زندگی کو بقا کی جدوجہد بنا دیا ہے۔ بارشیں معمول سے کم ہوئیں اور زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، جس کی وجہ سے صوبہ شدید آبی بحران کا شکار ہے۔ گوادر کے کلانچ کی رہائشی فاطمہ روزانہ ایک کلومیٹر پیدل چل کر اجتماعی واٹر ٹینک تک جاتی ہیں، مگر اکثر خالی ہاتھ لوٹتی ہیں۔ یہ مسئلہ ہزاروں خاندانوں کی مشترکہ حقیقت بن چکا ہے۔

بلوچستان کے دو تہائی اضلاع درمیانی سے شدید خشک سالی کا شکار ہیں۔ بارانی علاقوں میں فصلیں تباہ، چراگاہیں ختم اور ڈیم خالی پڑے ہیں۔ گوادر میں پانی کے ٹینکروں پر انحصار بڑھ گیا ہے، جہاں ایک 30000 لیٹر ٹینکر کی قیمت 20000 سے 30000 روپے تک پہنچ چکی ہے، جو زیادہ تر گھرانوں کی استطاعت سے باہر ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق خشک سالی کے دور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تیز ہو رہے ہیں۔ کمیونٹی سطح پر بارش کے پانی کے ذخیرے، سولر پمپ اور مینگرووز کی بحالی جیسے اقدامات امید کی کرن ہیں۔ طویل المدت حل کے لیے جدید ٹیکنالوجیز جیسے سولر ڈی سیلینیشن اور فوگ ہارویسٹنگ پر سنجیدہ پیش رفت ناگزیر ہے۔

خشک سالی کا بوجھ سب سے زیادہ خواتین اور بچوں پر ہے۔ کئی دیہات میں لڑکیاں روزانہ کئی کلومیٹر پانی لانے میں گزار دیتی ہیں اور اسکول چھوٹ جاتا ہے۔ صحت کے مراکز میں پانی کی کمی سے جڑی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں