سورج میں بڑا سوراخ، مقناطیسی طوفان کا خطرہ

روسی سائنسدانوں نے سورج میں 10 لاکھ کلومیٹر بلند سوراخ دریافت کیا ہے، جو مقناطیسی طوفان کا سبب بن سکتا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
سورج میں بڑا سوراخ، مقناطیسی طوفان کا خطرہ

ماسکو: (رائیٹ ناوٴ نیوز) روسی سائنسدانوں نے سورج میں ایک بڑا کورونل ہول دریافت کیا ہے جو تقریباً 10 لاکھ کلومیٹر بلند ہے اور الٹا نمبر ایک کی شکل میں ہے۔ یہ سوراخ زمین کی جانب ہے اور اس کے نتیجے میں تیز رفتار شمسی ہوا زمین کی طرف بڑھ رہی ہے، جو مقناطیسی طوفان اور قطبی روشنیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

پشکوف انسٹی ٹیوٹ آف ٹیریسٹریل میگنیٹزم کے ماہرین کے مطابق یہ سوراخ سورج کے 11 سالہ ‘سولر مِنی مم’ چکر سے منسلک ہے، جس کا اگلا دور 2029-30 میں شروع ہوگا۔ پچھلے سال دسمبر میں بھی اس سوراخ کا حجم سورج کے نصف قطر سے بھی بڑا تھا۔

روس کے اسپیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سال مقناطیسی طوفان بڑھ سکتے ہیں اور یہ عمل 2028 تک جاری رہ سکتا ہے۔ سورج سے خارج ہونے والی پلازما کی لہریں 60 ڈگری سے زیادہ عرض البلد والے علاقوں میں قطبی روشنیوں پیدا کر سکتی ہیں اور ریڈیو یا بجلی کے نظام میں مختصر خلل ڈال سکتی ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ سورج پر موجود دھبے اور گروہ مقناطیسی سرگرمیوں کا اندازہ لگانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ دھبے شمسی دھماکوں اور کورونل ماس ایجیکشن کے آغاز کے قریب نمودار ہوتے ہیں، جو زمین پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں