پاکستان میں تعلیم پر گھریلو اخراجات کی کمی کی وجہ سے 2 کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں گھریلو اخراجات کے دباؤ نے تعلیم کو ثانوی ترجیح بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں 2 کروڑ 3 لاکھ بچے ابھی بھی اسکول سے باہر ہیں۔ گھریلو مربوط معاشی سروے 2024-25 کے مطابق اوسط گھرانے کے 100 روپے میں سے بچے کی تعلیم پر صرف 2.50 روپے خرچ ہوتے ہیں۔
ڈیجیٹل سروے کے مطابق، 32 ہزار گھرانوں کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ آمدن کا 63 فیصد بنیادی ضروریات جیسے کہ خوراک اور یوٹیلیٹی پر خرچ ہو رہا ہے، جس کے بعد تعلیم کے لئے محدود رقم باقی رہ جاتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ گھریلو اخراجات پہلے روٹی، بجلی اور گیس پر صرف ہوتے ہیں، جس کے باعث بچوں کو اسکول چھوڑ کر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں 28 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں، جن میں 20 فیصد نے کبھی اسکول نہیں دیکھا۔
تعلیمی ماہرین اور ورلڈ بینک کے مطابق تعلیم غربت سے نکلنے کا ذریعہ ہے، مگر خوراک اور توانائی کے اخراجات میں کمی ضروری ہے تاکہ تعلیم بوجھ نہ بنے۔















