محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے انصاف کے بغیر مذاکرات بے معنی ہیں۔ انہوں نے عمران خان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کی مذمت کی۔
جامشورو: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی میں نو منتخب قائدِ حزبِ اختلاف اور تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اسی صورت ممکن ہیں جب دوسری جانب یہ احساس پیدا ہو کہ زیادتیاں ہو چکی ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے۔
سن میں جی ایم سید کی 122 ویں یومِ پیدائش کی تقریب کے موقع پر محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ وہ فی الحال تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کے سربراہ کی حیثیت سے بات کر رہے ہیں، کیونکہ قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے کا باضابطہ نوٹیفکیشن ابھی موصول نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو اہلِ خانہ سے ملنے کی اجازت نہ دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ امر اس بات کی علامت ہے کہ مقبول سیاسی رہنما کے ساتھ بھی غیر منصفانہ سلوک ہو رہا ہے۔
رانا ثنا اللہ کے بیان پر کہ پی ٹی آئی قیادت مذاکرات چاہتی ہے مگر عمران خان نہیں، اچکزئی نے سوال اٹھایا کہ مذاکرات کس بات پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت ایجاد نہیں کی جاتی بلکہ عوام کے اندر سے ابھرتی ہے۔
محمود خان اچکزئی نے بڑی سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ چند بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا کریں، جن میں آئین کی بالادستی، پارلیمان کا کردار، اور صوبوں کا حق شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کسی ایک فرد کے بس کی بات نہیں، بلکہ اجتماعی دانش ہی ملک کو اس بحران سے نکال سکتی ہے۔














