ورلڈ بینک کی مدد سے خیبر پختونخوا ٹورازم پراجیکٹ کی پیش رفت جاری، 2026 تک مکمل ہونا ہے۔
پشاور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ورلڈ بینک کے تعاون سے خیبر پختونخوا انٹیگریٹڈ ٹورازم ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی پیش رفت جاری ہے، جسے تازہ ترین رپورٹ میں ‘اطمینان بخش’ قرار دیا گیا ہے۔ 100 ملین ڈالر لاگت کا یہ منصوبہ 2019 میں شروع ہوا تھا اور 2026 تک مکمل ہونا ہے، جس کا مقصد صوبے میں سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور پائیدار سیاحت کا فروغ ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں متعدد نمایاں سنگ میل حاصل کیے گئے، جیسے ڈیرہ اسماعیل خان میوزیم کی عوامی رسائی، یونیسکو عالمی ورثے تخت بھائی خانقاہ پر روشنیوں کا منصوبہ، اور گلیات، کُمراٹ اور کاغان میں برف ہٹانے والی گاڑیاں کی فراہمی۔ ان اقدامات سے سیاحتی مقامات کی رسائی میں بہتری آئی۔
ڈیسٹینیشن مینجمنٹ اور نجی سرمایہ کاری میں بھی پیش رفت ہوئی، جہاں 350 ہزار ڈالر کی نجی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی جبکہ تھنڈیانی انٹیگریٹڈ ٹورازم زون میں 42 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری پائپ لائن میں شامل ہے۔ منصوبے کے اختتام تک نجی سرمایہ کاری کا ہدف 6 ملین ڈالر مقرر ہے۔
سماجی اثرات میں منصوبہ مقررہ حد سے آگے نکل چکا ہے، جہاں 275,682 افراد بہتر سہولیات سے مستفید ہوئے، جن میں 33 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں۔ روزگار کے شعبے میں بھی 2,664 نوکریاں پیدا ہوئیں اور 100 ہزار سے زائد لیبر ڈیز فراہم کیے گئے۔
ڈیجیٹل شعبے میں ٹورازم مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم اور دیگر پلیٹ فارمز مکمل طور پر فعال ہیں، جبکہ ٹی ایم آئی ایس کو پاشا ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔ عالمی بینک کے مطابق منصوبہ جون 2026 تک اپنے ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔















