ایران نے احتجاج کے بعد مواصلاتی پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے ایس ایم ایس سروس بحال کر دی ہے۔ سکیورٹی صورتحال میں بہتری کے بعد انٹرنیٹ سروس مرحلہ وار بحال ہوگی۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران میں حکومت نے دو ہفتوں سے زائد جاری احتجاج کے بعد مواصلاتی پابندیوں میں نرمی کا آغاز کر دیا ہے۔ ہفتے کو ملک بھر میں شارٹ میسج سروس (ایس ایم ایس) بحال کر دی گئی۔
حکام کے مطابق یہ اقدام سکیورٹی صورتحال میں بہتری اور احتجاجی تشدد سے منسلک افراد کی گرفتاری کے بعد لیا گیا۔ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے بیرون ملک اپوزیشن نیٹ ورکس کو کمزور کیا اور مبینہ دہشت گرد سیلز کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
حکام نے بتایا کہ اگلے مرحلے میں صارفین کو قومی انٹرانیٹ نیٹ ورک اور مقامی ایپلیکیشنز تک رسائی دی جائے گی، آخری مرحلے میں بین الاقوامی انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے گی۔ ایرانی میسجنگ پلیٹ فارمز ایٹا اور بالے کی سروس بھی فعال ہو گئی ہے۔
انٹرنیٹ بندش نے روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا۔ احتجاج کی بنیادی وجہ معاشی مشکلات تھیں اور انٹرنیٹ کی بندش نے دباؤ بڑھا دیا۔ وزیر خارجہ نے رابطہ بحالی کو جلد ممکن قرار دیا ہے۔
احتجاج کے دوران تقریباً 3000 افراد کی گرفتاری کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے ہیں۔ نیٹ بلاکس کے مطابق ہفتے کی صبح انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں معمولی اضافہ ہوا۔














