ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے کو ذاتی قرار دیا، عرب ممالک یا اسرائیلی قیادت نے قائل نہیں کیا۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے کو اپنا ذاتی فیصلہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک یا اسرائیلی قیادت نے انہیں اس حوالے سے قائل نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ نے میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی نے انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے روکنے کے لیے آمادہ نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے خود کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی اور برطانوی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ فوجی حملے کا فیصلہ آخری وقت میں تبدیل کیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ تبدیلی عرب خلیجی ممالک اور اسرائیلی وزیرِاعظم کے مشورے کے بعد آئی۔
خلیجی ممالک نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران خاموش سفارت کاری کے ذریعے ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ ان کے خدشات تھے کہ ایران پر حملہ خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے۔
قطر، کویت اور عمان ایران کے ساتھ بقائے باہمی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جبکہ سعودی عرب خطے میں استحکام کا خواہاں ہے تاکہ وہ اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال سکے۔














