اسٹیٹ بینک نے کیش ڈالر کی خریدوفروخت پر پابندیاں عائد کر دی ہیں اور رقم صرف اکاؤنٹ ٹو اکاؤنٹ ٹرانسفر کے ذریعے منتقل ہوگی۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کیش ڈالر کی خریدوفروخت پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ ڈالر کی رقم نقد دینے کے بجائے براہِ راست اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے۔ ایکسچینج کمپنیاں کہتی ہیں کہ یہ اقدام سفری ضروریات یا دیگر مقاصد کے لیے ڈالر خریداروں پر اثرانداز نہیں ہوگا۔
اسٹیٹ بینک نے غیر ملکی کرنسی کی لین دین کے قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیش لیس معیشت کو فروغ دینے کے لیے ڈالر کی فروخت اب اکاؤنٹ ٹو اکاؤنٹ ٹرانسفر کے ذریعے ہی ہوگی۔
اس فیصلے کے تحت ڈالر خریداروں کو نقد رقم نہیں ملے گی بلکہ رقم ان کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوگی۔ جن کے پاس غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس نہیں ہیں، وہ کیش ڈالر نہیں خرید سکیں گے۔
افراد کے لیے 500 ڈالر سے زیادہ نقد خریدنے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق اور دستاویزات فراہم کرنا ضروری ہوگا۔ مسافروں، طلبہ اور حج و عمرہ پر جانے والوں کو 500 ڈالر سے زائد خریداری کے لیے مکمل دستاویزات دینا ہوں گی۔
نئے قواعد کے بعد بینکوں کی ایکسچینج کمپنیوں کے پاس زیادہ گاہک آئیں گے، جبکہ آزاد ایکسچینج کمپنیاں ان قواعد سے متاثر ہوں گی۔














