طالبان کے قائد ہیبت اللہ اخوندزادہ کی تقریر نے قندھار اور کابل کے دھڑوں کے درمیان اختلافات کو بے نقاب کیا ہے۔
کابل: (رائیٹ ناوٴ نیوز) طالبان کے اعلیٰ رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ایک تقریر نے طالبان کے اندرونی اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس تقریر میں انہوں نے افغانستان میں طالبان کے قیادت میں دو مختلف دھڑوں کے ابھرنے کا اشارہ دیا۔
یہ تقریر تقریباً ایک سال پہلے قندھار میں ایک مدرسے میں کی گئی، جس میں اخوندزادہ نے داخلی اختلافات کے ممکنہ نقصانات کی بات کی۔ ان کے مطابق، طالبان کے اندر دو گروہ اُبھر چکے ہیں: ایک سخت گیر قندھاری دھڑا جو ان کے قیادت میں افغانستان کو ایک سخت اسلامی ریاست بنانے کا خواہشمند ہے، اور دوسرا کابل کا دھڑا جو عالمی سطح پر تعاونی رویہ اپنانا چاہتا ہے۔
کچھ دن پہلے اخوندزادہ نے افغانستان کا دنیا سے رابطہ منقطع کرنے کے لیے انٹرنیٹ اور فون بند کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن کابل کے گروہ نے جلد ہی انٹرنیٹ بحال کر دیا۔ یہ عمل کابل دھڑے کے اخوندزادہ کے خلاف بغاوت کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔
کابل کا گروہ، جس کی قیادت غیر رسمی طور پر ملا برادر کر رہے ہیں، افغانستان کو ایک خلیجی ریاست کے ماڈل کی جانب لے جانا چاہتا ہے، جبکہ قندھاری گروہ کی طاقت بڑھتی جا رہی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان اختلافات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔














