صنعتی صارفین پر کراس سبسڈی کا بوجھ مزید بڑھ رہا ہے، جو پہلے ہی 102 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ اضافی بوجھ صنعتی لاگت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث صنعتی شعبے کی جانب سے بجلی کی کھپت میں کمی رپورٹ ہوئی ہے۔ سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر گوہر اعجاز کے مطابق مالی سال 2024-25 اور 2022-23 کے درمیان صنعتی بجلی کھپت میں 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کمی اس کے باوجود سامنے آئی ہے کہ گزشتہ سال 1000 میگاواٹ کے گیس پر چلنے والے کیپٹو پاور پلانٹس دوبارہ قومی گرڈ سے منسلک ہوئے۔ پاور ڈویژن کو ڈسکوز کے بجلی کھپت چارٹس کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر گوہر اعجاز کے مطابق زرعی شعبے میں بجلی کھپت میں 38 فیصد کمی ہوئی ہے، جبکہ متعدد صارفین آف گرڈ منتقل ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ گھریلو صارفین شمسی توانائی اختیار کر چکے ہیں اور 200 یونٹس سے کم استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دوگنا ہو گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس صورتحال کے نتیجے میں صنعتی صارفین پر کراس سبسڈی کا بوجھ مزید بڑھ رہا ہے، جو پہلے ہی 102 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ اضافی بوجھ صنعتی لاگت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاور ڈویژن کی پالیسی میں صنعتی ٹیرف سے کراس سبسڈی کے خاتمے اور مہنگے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں، خصوصاً کوئلے اور ہوا سے چلنے والے آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ بجلی نرخ کم ہوں اور طلب میں اضافہ ہو سکے۔
واضح رہے کہ صنعتی شعبہ اس وقت تقریباً 35 روپے فی یونٹ بجلی لاگت برداشت کر رہا ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک میں صنعتی ٹیرف 25 روپے فی یونٹ سے کم ہے، جس کے باعث پاکستانی صنعت کو مسابقتی دباؤ کا سامنا ہے۔















