ریلوے انجنوں کی خرابی، آپریشنل مسائل میں اضافہ

پاکستان ریلوے کے 63 فیصد انجن 20 سال سے پرانے ہونے کے باعث آپریشنل مسائل اور تاخیر میں اضافہ ہوا ہے۔ کمیٹی کو انجنوں کی خرابی اور مالی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ریلوے انجنوں کی خرابی، آپریشنل مسائل میں اضافہ

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان ریلوے کے 63 فیصد سے زائد انجن 20 سال سے زیادہ پرانے ہو چکے ہیں، جس کے باعث آپریشنل مسائل اور ٹرینوں کی تاخیر میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ریلوے کو درپیش مسائل کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی کا اجلاس بدھ کو منعقد ہوا، جس کی صدارت رکن قومی اسمبلی رمیش لال نے کی۔ اجلاس میں انجنوں کی خرابی اور مسافر سہولیات کے معیار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ لوکوموٹیوز کی خرابی کے واقعات میں معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ پرانا بیڑا ہے۔ حکام کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مرمت کے نظام میں بہتری، بجٹ میں اضافہ، تکنیکی عملے کی تربیت اور معیاری مواد کی خریداری جیسے اقدامات شامل ہیں۔

کمیٹی کو ڈیزل الیکٹرک لوکوموٹیوز کی اوورہالنگ اور جدیدکاری کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ مسافر کوچز کی تعداد جون 2025 کی قلت کے بعد اب بڑی حد تک پوری کر لی گئی ہے، جبکہ ستمبر 2025 میں یہ تعداد 1,105 ہو گئی ہے اور جون 2026 تک 1,150 تک پہنچنے کی توقع ہے۔

مالی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا کہ مالی سال 2024-25 میں مسافر آمدن 48.832 ارب روپے رہی، جبکہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں آمدن 7 فیصد بڑھ گئی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں