ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث درجنوں تجارتی جہاز ایرانی بندرگاہوں سے باہر لنگر انداز ہو گئے ہیں۔ جہاز مالکان ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر احتیاط برت رہے ہیں۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث درجنوں تجارتی جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں کی حدود سے باہر لنگر ڈال دیا ہے۔ شپنگ ذرائع کے مطابق، جہاز مالکان ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر احتیاط برت رہے ہیں۔
ایران میں جاری احتجاج اور امریکا کے ساتھ بڑھتے تناؤ کے باعث بندرگاہ کی حدود میں موجود جہاز کسی بھی فضائی حملے کی صورت میں زیادہ خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں، اسی لیے کئی جہازوں نے فاصلے پر لنگر ڈالنے کو ترجیح دی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک ایرانی اعلیٰ عہدیدار نے کہا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
بحری انٹیلی جنس ادارے پول اسٹار گلوبل کے مطابق 6 سے 12 جنوری کے درمیان ایران کے خصوصی اقتصادی زون میں داخل ہونے والے آئل ٹینکروں کی تعداد ایک سے بڑھ کر 36 ہو گئی۔
میرین ٹریفک کے ڈیٹا کے مطابق کم از کم 25 بلک کیریئرز بندر امام خمینی کے قریب کھڑے ہیں، جب کہ مزید 25 کنٹینر اور کارگو جہاز بندر عباس کے جنوب میں لنگر انداز ہیں۔














