تنزانیہ کی جھیل ناٹرون کا الکلائن پانی ہر چیز کو پتھر نما بنا دیتا ہے۔ جھیل کی سرخ رنگت اور خطرناک خصوصیات ماہرین کو حیران کرتی ہیں۔
تنزانیہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) تنزانیہ کے شمالی علاقے میں واقع جھیل ناٹرون اپنی خطرناک اور حیرت انگیز خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ جھیل اپنی سرخ رنگت اور الکلائن پانی کی وجہ سے منفرد ہے، جو پانی سے ٹچ ہونے والی ہر چیز کو پتھر نما بنا دیتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق جھیل تقریباً ڈیڑھ ملین سال پہلے آتش فشانی سرگرمیوں کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ جھیل کے پانی میں کیلشیم بائکاربونیٹ اور سوڈیم کاربونیٹ کی زیادتی جانوروں کے لیے خطرناک ہوتی ہے۔
فوٹوگرافر نک برانڈٹ نے جھیل کے کنارے متاثرہ مردہ جانوروں کی تصاویر شائع کیں، جو پتھر نما نظر آتے ہیں۔ یہ جھیل فلیمنگو پرندوں کے لیے خوراک کا ذریعہ بھی ہے اور ان کی نسل افزائی کے لیے محفوظ جگہ فراہم کرتی ہے۔
جھیل ناٹرون کی خطرناک الکلائن خصوصیات جانوروں کی جلد کو جلا دیتی ہیں، جبکہ سوڈیم کاربونیٹ مردہ جسموں کو محفوظ رکھتا ہے، جیسے قدیم مصر میں ممیوں کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔














