انڈے کے خول، پودوں کی نشوونما کے لیے مؤثر ہیں، ان میں موجود کیلشیم مٹی کی ساخت کو مضبوط بناتا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) انڈے کے خول، جو عام طور پر ضائع ہو جاتے ہیں، پودوں کی نشوونما کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان خولوں میں موجود کیلشیم اور دیگر معدنی اجزا مٹی کی ساخت کو مضبوط بناتے ہیں اور پودوں کی جڑوں کو طاقتور بناتے ہیں۔
انڈے کے خول کو خشک کر کے پیس کر مٹی میں شامل کیا جا سکتا ہے، جو آہستہ آہستہ کیلشیم فراہم کرتا ہے۔ یہ قدرتی کھاد کے طور پر کام کرتا ہے اور پودوں کی جڑوں کو مضبوط بناتا ہے۔
پیسے ہوئے خول پودوں کے گرد بکھیرنے سے کیڑوں سے تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کی نوکدار سطح کیڑوں کے لیے رکاوٹ بن جاتی ہے۔ خول کو نصف کر کے مٹی بھر کر بیج بونے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انڈے کے خول کو استعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح صاف اور خشک کرنا ضروری ہے تاکہ بدبو یا جراثیم پیدا نہ ہوں۔ تیزابی مٹی پسند کرنے والے پودوں کے لیے انڈے کے خول کا زیادہ استعمال مناسب نہیں۔















