حکومت کا برآمدی ایمرجنسی سے برآمدات 40 فیصد بڑھانے کا منصوبہ

حکومت نے برآمدی ایمرجنسی نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت برآمدات میں چار سال میں 40 فیصد اضافہ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
حکومت کا برآمدی ایمرجنسی سے برآمدات 40 فیصد بڑھانے کا منصوبہ

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حکومت نے ملک میں برآمدات کے فروغ کے لیے ’’برآمدی ایمرجنسی‘‘ نافذ کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس کے تحت وزیر اعظم آفس میں ایک خصوصی سیل قائم کیا جائے گا جو کاروباری برادری کے مسائل اور شکایات فوری بنیادوں پر حل کرے گا۔ حکومت نے چار سال میں برآمدات 40 فیصد بڑھانے اور 2035 تک تقریباً 200 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے پیر کو نیوز کانفرنس میں کہا کہ پورے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر تبدیل کر کے پاکستان کو برآمدی معیشت بنانا ہوگا، بصورت دیگر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور دوست ممالک پر مالی انحصار برقرار رہے گا۔

احسن اقبال نے کہا کہ 2022 میں تیزی سے 6 فیصد نمو حاصل کرنے کے لیے درآمدات کھول دی گئیں، جس سے تجارتی خسارہ 50 ارب ڈالر تک پہنچا، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوئے، روپے کی قدر گری اور مہنگائی بڑھی، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مصنوعی نمو کے بجائے زرعی، صنعتی اور برآمدی شعبوں پر مبنی پائیدار ترقی چاہتی ہے۔ ان کے مطابق اقتصادی خودمختاری کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے اور اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے وزیر اعظم کو جامع تجاویز پیش کی ہیں، جن میں برآمدی ایمرجنسی کا اعلان، ریفنڈز کی فوری ادائیگی اور وزیر اعظم آفس میں خصوصی یونٹ کے قیام کی تجویز شامل ہے، جہاں ہاٹ لائن کے ذریعے برآمد کنندگان کے مسائل فوری نمٹائے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی اداروں کو پیداواری عمل متاثر ہونے سے بچانے کے لیے ملازمین کے ساتھ خصوصی مراعات کے بدلے تعطیلات میں لچک پر مذاکرات کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ یہ تجاویز 20 ترجیحی برآمدی شعبوں سے مشاورت کے بعد تیار کی گئیں۔

احسن اقبال کے مطابق وزیر اعظم نے ان تجاویز کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ایک اور کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی قیادت نائب وزیر اعظم کر رہے ہیں اور اس میں مالیات، منصوبہ بندی، اقتصادی امور کی وزارتیں اور نجی شعبے کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ سفارشات آئندہ ہفتے حتمی شکل دے کر عملدرآمد کی حکمت عملی کے لیے پیش کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ مل کر ضلعی سطح پر برآمدی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ توانائی کی غیر مسابقتی قیمتیں ایک بڑا چیلنج ہیں، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ آئندہ دو سال میں زرعی، مالیاتی اور توانائی شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے 2027 کے بعد تیز رفتار اور پائیدار ترقی کی بنیاد رکھی جائے گی۔

 

دیگر متعلقہ خبریں