پورٹ قاسم پر 14590 ایکڑ صنعتی کمپلیکس کی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافہ ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حکومت نے پورٹ قاسم پر صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے 14590 ایکڑ پر مشتمل طویل المدتی ماسٹر پلان کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کی صنعتی بنیاد مضبوط بنانا، برآمدات میں اضافہ اور پورٹ قاسم کو علاقائی تجارتی و لاجسٹکس مرکز کے طور پر فروغ دینا ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس منصوبے کا اعلان پورٹ قاسم انڈسٹریل کمپلیکس کے وژن سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پورٹ قاسم کی مربوط منصوبہ بندی اور مرحلہ وار ترقی عالمی معیار کے صنعتی اور لاجسٹکس مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی اثرات سے ہم آہنگ یہ صنعتی مرکز آئندہ دو دہائیوں میں اربوں ڈالر کے معاشی فوائد پیدا کر سکتا ہے، جس سے صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ، برآمدات کا فروغ اور لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ماسٹر پلان 14590 ایکڑ سے زائد رقبے پر مشتمل ہے، جسے متوازن صنعتی ترقی کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
منصوبے کے تحت کمپلیکس کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: نارتھ ویسٹرن زون 3061 ایکڑ پر، ایسٹرن زون 7273 ایکڑ پر اور ساؤتھ ویسٹرن زون 2258 ایکڑ پر مشتمل ہوگا۔ اس کے علاوہ 1997 ایکڑ نشیبی علاقے کو ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کے تحت استعمال میں لایا جائے گا۔
حکومت پورٹ قاسم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق علاقائی صنعتی اور تجارتی مرکز بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے، جبکہ اس وقت 833 صنعتی یونٹس فعال ہیں اور 40 یونٹس زیر تعمیر ہیں۔















