پی ٹی سی ایل بورڈ میں وفاقی وزیر احد چیمہ، سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال،وفاقی سیکرٹری آئی ٹی ضرار ہاشم اور وفاقی سیکرٹری تجارت جواد پال خواجہ شامل
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں پی ٹی سی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور چیئرمین کو دیے جانے والے پیکجز اور مراعات پر شدید اعتراضات اٹھائے گئے۔ سینیٹرز نے سرکاری ملازمین کو غیر معمولی ادائیگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام سے وضاحت طلب کر لی۔
دستاویزات کے مطابق پی ٹی سی ایل کے چیئرمین کو فی اجلاس 8 ہزار ڈالر ادا کیے جاتے ہیں، جبکہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو فی میٹنگ 5 ہزار ڈالر ملتے ہیں۔ بورڈ کمیٹی کے ہر رکن کو فی اجلاس ایک ہزار ڈالر دیے جانے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی سی ایل کو ماہانہ 25 ہزار روپے اعزازیہ کے ساتھ 1300 سی سی سرکاری گاڑی اور ڈرائیور کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
سینیٹر سعدیہ عباسی نے سوال اٹھایا کہ بورڈ کے وہ ممبرز جو سرکاری ملازم ہیں، انہیں 8 ہزار ڈالر کیوں دیے جا رہے ہیں۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ اگر کوئی شخص سرکاری نوکری کر رہا ہے تو وہ اضافی ادائیگی کس مد میں لے رہا ہے۔ انہوں نے قانون سازی کی تجویز دی۔
سینیٹر پرویز رشید نے ان مراعات کو سراسر زیادتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا نظام ہے کہ ایک میٹنگ کے عوض 20 سے 25 لاکھ روپے مل رہے ہیں جبکہ اصل تنخواہ 4 یا 5 لاکھ روپے ہے۔
کمیٹی اجلاس میں بتایا گیا کہ پی ٹی سی ایل بورڈ کی مراعات کا معاملہ تین مرتبہ مختلف کمیٹیوں میں زیر بحث آ چکا ہے، تاہم ادائیگیوں میں کمی یا نظرثانی نہیں کی گئی۔پی ٹی سی ایل بورڈارکان میں وفاقی وزیر احد چیمہ، سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال،وفاقی سیکرٹری آئی ٹی ضرار ہاشم اور وفاقی سیکرٹری تجارت جواد پال خواجہ شامل ہیں۔
اجلاس کے دوران وزارت آئی ٹی کے ذیلی ادارے پاک ڈیٹا کام کے سی ای او بریگیڈیئر ریٹائرڈ ذوالفقار نے شکایت پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بطور سی ای او ان کے ساتھ ان کے بورڈ اور وزارت آئی ٹی نے زیادتی کی ہے۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ ذوالفقار کے مطابق انہیں زبردستی چھٹی پر بھیج دیا گیا اور چیئرمین بورڈ کی جانب سے تذلیل کا سامنا کرنا پڑا۔ سینیٹر افنان اللہ نے بریگیڈیئر ریٹائرڈ ذوالفقار کے الزامات پر وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام سے جواب طلب کیا۔
واضح رہے کہ چیئرپرسن کمیٹی نے پی ٹی سی ایل بورڈ پیکجز، مراعات اور پاک ڈیٹا کام کے معاملے پر وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے حکام سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ طلب کر لی ہے۔














