بجلی کے نرخوں میں اضافے سے 61 فیصد صارفین کی کھپت کم

بجلی کے بڑھتے نرخوں کے باعث 200 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین کی شرح 61 فیصد ہو گئی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
بجلی کے نرخوں میں اضافے سے 61 فیصد صارفین کی کھپت کم

پشاور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ملک میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور گھریلو صارفین پر بڑھتے مالی دباؤ پر مشیرِ خزانہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بجلی کی کھپت میں کمی کسی بہتری کا نہیں بلکہ معاشی مجبوریوں کا نتیجہ ہے۔

مزمل اسلم کے مطابق ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ سروے اور پاور سیکٹر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2021 میں پورے پاکستان میں تقریباً 95 لاکھ صارفین 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے تھے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 20 لاکھ 70 ہزار ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2021 میں 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کی شرح 34 فیصد تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 61 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

مشیر خزانہ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ان اعداد و شمار کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم 38 فیصد آبادی کو مہنگے اور جابرانہ بجلی کے بلوں کے باعث اپنی بجلی کی کھپت کم کرنا پڑی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر شمسی توانائی استعمال کرنے والے صارفین کو بھی شامل کیا جائے تو یہ شرح 38 فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

مزمل اسلم نے اپنے بیان میں عمران خان کے دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں عوام بے دھڑک بجلی استعمال کرتے تھے اور بجلی کے بلوں کا ایسا دباؤ موجود نہیں تھا، جبکہ موجودہ حالات میں بجلی کے نرخ عام شہری کے لیے ایک بڑا بوجھ بن چکے ہیں۔

انہوں نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ سروے کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلے ہی عوام کی غذائی ضروریات متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں شہری دو وقت کی روٹی تک محدود ہو چکے ہیں، دودھ اور دالیں ایک وقت میں استعمال کی جا رہی ہیں، جبکہ گوشت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے مطابق محفوظ صارفین کی کیٹیگری میں آنے والے گھریلو صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو بڑھتی مہنگائی اور توانائی کے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں