ایران میں دو ہفتوں کے پرتشدد مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 200 سے زائد ہو گئی ہے، تہران میں حالات معمول پر آ گئے ہیں۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران میں حکومت اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ دو ہفتوں کے پرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 200 سے زائد ہو گئی ہے۔
گزشتہ رات تہران میں مظاہرین نے درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی اور سرکاری عمارتوں پر پیٹرول بم پھینکے۔ ان مظاہروں کے دوران اب تک 109 سیکیورٹی اہلکار جان سے جا چکے ہیں۔
پولیس کے مطابق، مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں 116 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 2600 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ تہران میں صبح ہوتے ہی حالات معمول پر آ گئے، بازار کھل گئے اور ٹریفک رواں دواں ہے۔
پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ گزشتہ شب سے ملک میں مجموعی ماحول پُرامن رہا اور تہران سمیت بڑے شہروں میں کوئی نمایاں خلل نہیں دیکھا گیا۔ ایرانی عوام خود کو دہشت گردوں سے علیحدہ رکھے ہوئے ہیں۔
ایران میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی سیکیورٹی خدشات کی بنا پر محدود کی گئی ہے، ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ قوم موجودہ صورتحال پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔














