سائنسی تحقیق کے مطابق بیٹیوں کی موجودگی والدین میں دماغی کمزوری کے خطرے کو کم کر سکتی ہے۔ یہ رشتہ جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے بھی قیمتی سرمایہ ثابت ہوتا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق بیٹیوں کی موجودگی والدین، خاص طور پر باپ میں بڑھاپے کے دوران دماغی کمزوری اور یادداشت کے مسائل کے خطرے کو کم کر سکتی ہے۔ تحقیق کے نتائج جرنل آف ویمن اینڈ ایجنگ میں شائع ہوئے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن والدین کی بیٹیاں ہیں، وہ بڑھتی عمر کے باوجود بہتر ذہنی صلاحیتوں کے حامل پائے گئے ہیں۔ ان کی یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں زیادہ متاثر نہیں ہوئیں جبکہ صرف بیٹوں والے والدین میں یہ صلاحیتیں کمزور ہونے کے امکانات زیادہ دیکھے گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فرق کی وجہ جسمانی یا جینیاتی عنصر سے زیادہ سماجی اور جذباتی تعلقات ہیں۔ بیٹیاں والدین کو جذباتی سہارا دیتی ہیں، علاج معالجے میں مدد کرتی ہیں اور انہیں متحرک رکھتی ہیں، جو دماغی سرگرمی کو برقرار رکھتے ہیں اور ذہنی کمزوری کے امکانات کو کم کرتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ بیٹیوں کا اچھا اثر ماؤں پر زیادہ ہوتا ہے کیونکہ مائیں بیٹیوں کے جذباتی سہارا اور سماجی قربت سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت زیادہ عرصے تک بہتر رہتی ہے۔















