احسن اقبال نے لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبے کی مشروط منظوری کی وضاحت کی، کہا کہ صرف 18.5 کلومیٹر حصے کو ایکنک کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبے پر میڈیا رپورٹس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کو مکمل منظور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ صرف 18.5 کلومیٹر حصے کو ایکنک کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
احسن اقبال کی وضاحت اس وقت سامنے آئی جب رپورٹس میں سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کی جانب سے 465 ارب روپے کے موٹروے منصوبے کی مشروط منظوری کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کی لاگت 201 ارب روپے زیادہ ہے اور ممکنہ طور پر سی پیک کے ایم ایل ون منصوبے پر اثر ڈال سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بقیہ 276.5 کلومیٹر روٹ کو حتمی منظوری نہیں دی گئی اور متعلقہ اداروں کو تکنیکی فزیبلٹی مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزارت مواصلات کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے مالی ذرائع تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ ترجیحی منصوبوں میں سکھر–حیدرآباد موٹروے اور قراقرم ہائی وے کی ری الائنمنٹ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ وزیراعظم کی ہدایات اور فزیبلٹی رپورٹس کے مکمل ہونے پر ہوگا۔













