پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کے چھاپوں پر وزیراعظم سے مداخلت کی اپیل کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں حد سے تجاوز کر چکی ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے نجی کلینکس اور اسپتالوں پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چھاپوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ٹیکس حکام کی "کمانڈو طرز” کی کارروائیاں قابلِ قبول حد سے تجاوز کر چکی ہیں۔
پریس بیان میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے کہا کہ بغیر اطلاع نجی طبی مراکز میں داخل ہونا، خصوصاً پنجاب میں، ہراسانی کی انتہا ہے۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیوں کے باعث او پی ڈی سروسز فوری طور پر معطل ہوئیں، جو مریضوں کے علاج میں براہِ راست مداخلت اور جان بچانے والے اداروں کی حرمت کی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کلینکس میں نفاذی اداروں کی موجودگی مریضوں میں خوف، ذہنی دباؤ اور جراحی ٹیموں کے کام میں خلل کا باعث بنتی ہے۔ ڈاکٹر شورو نے واضح کیا کہ ٹیکس وصولی انسانی جان کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے، ڈاکٹر تاجر نہیں اور اسپتال ریٹیل آؤٹ لیٹس نہیں ہیں، جبکہ نجی شعبہ ملک کی 70 فیصد آبادی کو خدمات فراہم کرتا ہے۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ وہ قانون کی پاسداری کے لیے تیار ہے، مگر آڈٹس دستاویزی اور پیشہ ورانہ طریقہ کار کے تحت ہونے چاہئیں، نہ کہ چھاپوں کے ذریعے۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیاں پیشہ ورانہ حوصلہ شکنی کرتی ہیں اور باصلاحیت طبی ماہرین کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کرتی ہیں۔
پریس بیان میں وزیراعظم پاکستان اور وزیر خزانہ سے مطالبہ کیا گیا کہ ان جارحانہ اقدامات کو فوری طور پر روکا جائے۔ ڈاکٹر شورو نے خبردار کیا کہ اگر ہراسانی بند نہ ہوئی تو ملک گیر سطح پر طبی خدمات معطل کرنے کا حتمی قدم اٹھایا جا سکتا ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
واضح رہے کہ دسمبر 2025 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کمرشل اسپتالوں اور کلینکس میں ان لینڈ ریونیو سروس کے افسران تعینات کیے، جسے آن سائٹ مانیٹرنگ کی جانب قدم قرار دیا گیا۔ یہ اقدام ٹیکس سال 2025 میں ڈاکٹروں کی کم ٹیکس تعمیل کے تناظر میں تیز کیا گیا۔















