سردیوں میں گھی، اجوائن، تل، باجرہ، ادرک اور مونگ کی دال جیسی دیسی غذائیں جسم کو گرم رکھتی ہیں۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سردیوں کے موسم میں جب ٹھنڈی ہوائیں جسم پر اثر انداز ہونے لگتی ہیں تو خوراک کا درست انتخاب بے حد ضروری ہو جاتا ہے۔ مشرقی طب اور حکمت صدیوں سے ان غذاؤں کی اہمیت بیان کرتی آئی ہے جو نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں بلکہ اندرونی حرارت بھی بڑھاتی ہیں۔
گھی کو ہمیشہ سردیوں کی غذا کا بادشاہ سمجھا گیا ہے۔ اس میں پائی جانے والی مفید چکنائیاں جسم کو فوری توانائی دیتی ہیں اور اندر سے گرم رکھتی ہیں۔ اجوائن بھی سردیوں میں خاص اہمیت رکھتی ہے، معدے کو فعال بناتی ہے اور جسم کے اندرونی درجۂ حرارت کو برقرار رکھتی ہے۔
تل کے لڈو، چکّی یا چٹنی سردیوں میں نہ صرف توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ جسم کی خشکی اور تھکن کو بھی دور کرتے ہیں۔ باجرے کی روٹی چونکہ دیر سے ہضم ہوتی ہے، جسم کو زیادہ توانائی خرچ کرنی پڑتی ہے، جس سے قدرتی حرارت پیدا ہوتی ہے۔
ادرک کا استعمال خون کی روانی بہتر بناتا ہے اور سردیوں میں جسم کو چاق و چوبند رکھتا ہے۔ مونگ کی دال بظاہر ہلکی غذا ہے، لیکن گھی اور گرم مصالحوں کے ساتھ پکائی جائے تو جسم کو سکون اور حرارت فراہم کرتی ہے۔
یہ روایتی دیسی غذائیں نہ صرف ذائقے سے بھرپور ہیں بلکہ سردیوں کی شدت کم کرنے میں بھی مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ بزرگوں کی آزمودہ حکمت آج بھی کارآمد ہے، کیونکہ قدرتی غذائیں صحت کو دیرپا فائدہ پہنچاتی ہیں۔















