ایران اور پاکستان کےمظاہروں میں فرق کیا ہے؟علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی وضاحت

سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ایران میں پرامن مظاہروں کی حمایت اور پرتشدد کارروائیوں کی مخالفت کی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ایران میں مظاہروں کے حق میں، پرتشدد کارروائیوں کی مخالفت

تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ایران میں جاری مظاہروں پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج عوام کا حق ہے، مگر پرتشدد کارروائیوں کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

ایران میں جاری مظاہروں اور پاکستان میں احتجاجی سیاست سے متعلق ایک صحافی کے سوال پر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہروں اور پرتشدد کارروائیوں میں واضح فرق ہونا چاہیے۔

صحافی نے سوال کیا کہ ایران میں مظاہرین سے گھروں کو واپس جانے کی اپیل کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں مظاہروں کے لیے لوگوں کو باہر آنے کا کہا جاتا ہے، اس تضاد کی کیا وجہ ہے۔

اس پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ایران میں خود رہبرِ انقلاب نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے اور احتجاج کرنا ان کا حق ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ گولیاں چلانا، قتل و غارت گری کرنا، گھروں کو جلانا، آگ لگانا اور بینک لوٹنا کسی بھی صورت احتجاج نہیں کہلا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے پرتشدد اقدامات کی وہ اور ان کی جماعت مخالفت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں پرامن مظاہروں کی خود حکومت بھی حمایت کر رہی ہے، صدر مظاہرین سے ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں اور ان کے مطالبات سن رہے ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے واضح کیا کہ وہ مظاہروں کے اصولی طور پر کبھی مخالف نہیں رہے۔ ان کے مطابق اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا ہر شہری کا حق ہے، تاہم قتل، تشدد اور دہشت گردی کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔

دیگر متعلقہ خبریں