وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں ایس آئی ایف سی کے تحت سرمایہ کاری میں شفافیت کی کمی کو پالیسی کے تسلسل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کے تحت سرمایہ کاری میں شفافیت کی کمی پالیسی کے تسلسل کو متاثر کر رہی ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور بنا رہی ہے۔
وزارت نے وعدہ کیا ہے کہ کونسل کے معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا، جو آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی شرائط میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق شفافیت کی کمی معلوماتی عدم توازن پیدا کرتی ہے، جو گورننس کے خطرات بڑھاتی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔
حکومت نے 2023 میں ایس آئی ایف سی کو سرمایہ کاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے قائم کیا تھا، لیکن بھاری ٹیکس اور توانائی کی بلند قیمتیں جیسے بنیادی مسائل حل طلب ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مراعات کی معلومات عوامی سطح پر دستیاب نہیں، جس سے سرمایہ کاری فیصلوں کی منطق پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے بورڈ آف انویسٹمنٹ ایکٹ کے آرٹیکل 10 ایف اور 10 جی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جن کے تحت کونسل کو وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایس آئی ایف سی کی پہلی سالانہ رپورٹ 2026 تک جاری کی جائے گی۔















