لاہور میں تجاوزات کے خاتمے کے آپریشن پر ماحولیاتی تنظیموں نے درختوں کی کٹائی پر احتجاج کرتے ہوئے متوازن ترقی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
لاہور (رائیٹ ناوٴ نیوز) پنجاب حکومت نے لاہور میں سڑکوں، بازاروں اور تاریخی مقامات کے اطراف تجاوزات کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہے، جس پر شہریوں اور ماحولیاتی تنظیموں نے احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران درختوں کی کٹائی اور تاریخی سبز مقامات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جو شہر کی فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
لاہور بچاؤ تحریک کی کنوینر عمرانہ ٹوانہ نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی آلودگی صحتِ عامہ کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے اور تحریک ترقی کے خلاف نہیں، بلکہ متوازن اور منصوبہ بند شہری ترقی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، لاہور میں شہریوں کی اوسط عمر میں 8 سال کی کمی ہو چکی ہے اور شہر کا سبز رقبہ کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا ہے۔
عمرانہ ٹوانہ نے بتایا کہ لاہور بچاؤ تحریک نے انسانی حقوق کمیشن اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔ اس درخواست میں ناصر باغ جیسے علاقوں میں درختوں کی کٹائی کو ماحولیاتی تباہی قرار دیا گیا ہے، جبکہ عدالتوں نے پارکس کے تحفظ اور صاف ہوا کو آئینی حق قرار دیا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے سے شہر کی خوبصورتی بحال ہوگی اور ٹریفک مسائل کم ہوں گے۔ حکام کے مطابق تاریخی لاہور کی اصل شناخت بحال کرنے کے لیے غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ ضروری ہے اور اسی مقصد کے تحت سڑکوں کی توسیع اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے منصوبے جاری ہیں۔
لاہور بچاؤ تحریک نے عوامی مفاد کو نقصان پہنچانے والی تجاوزات کے خاتمے سے اتفاق کیا، لیکن ترقی کی آڑ میں درختوں، سبز مقامات اور تاریخی ورثے کو نقصان نہ پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تحریک نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے واضح پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔















