بھارت میں اسرائیلی سفیر نے غزہ کے لیے پاکستانی فوج کی شرکت مسترد کر دی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل صرف ان ممالک کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے جن پر اعتماد ہے۔
نئی دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارت میں اسرائیلی سفیر رووین آذر نے غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس میں پاکستانی فوج کی شمولیت کی تجویز کو ناقابل عمل قرار دے دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل صرف ان ممالک کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے جن پر اسے اعتماد ہے۔
رووین آذر نےبھارتی ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کو پاکستان کے امن فوج میں کردار پر تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق امن منصوبے کے اگلے مرحلے کے لیے حماس کا خاتمہ ضروری ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےگزشتہ ماہ یہ واضح کیا تھا کہ پاکستان غزہ میں امن کے لیے تعینات کی جانے والی بین الاقوامی فورس کا حصہ بننے پر تیار ہے، بشرطیکہ اس فورس کے مینڈیٹ میں حماس کو غیر مسلح کرنا شامل نہ ہو۔
بھارت میں تعینات اسرائیلی سفیر نے بتایا کہ غزہ میں استحکام اور تعمیر نو کے لیے ایک فورس تشکیل دینے کی تجویز امریکہ کی جانب سے زیر غور ہے، تاہم کئی ریاستوں نے حماس کے خلاف کارروائی سے گریز کے باعث فوج بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
رووین آذر کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایسی فورس کا قیام عملی طور پر ممکن نہیں کیونکہ حماس کے خلاف لڑنے کے لیے آمادگی موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک حماس کو ختم نہیں کیا جاتا، آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں۔
جب ان سے براہ راست سوال کیا گیا کہ کیا اسرائیل غزہ میں پاکستانی فوج کے کردار کو قبول کرے گا، تو انہوں نے دو ٹوک انداز میں اس امکان کو مسترد کر دیا۔












