پاکستان اور چین نے امن و استحکام پر زور دیتے ہوئے سی پیک 2.0 میں ہم آہنگی بڑھانے پر اتفاق کیا ہے اور بھارت کے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور چین نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک نے سی پیک 2.0 کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں ہم آہنگی بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ چین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہا ہے۔
ترجمان کے مطابق گزشتہ ہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کا دورہ کیا، جہاں پاک چین اسٹریٹجک مذاکرات ہوئے اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ پاکستان نے چین کی قومی وحدت کے حصول کے اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا، جب کہ مذاکرات میں چین کو مسئلہ کشمیر سے آگاہ کیا گیا۔ چینی قیادت نے مسئلہ کشمیر کو ایک حل طلب تاریخی مسئلہ قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ چین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور اقدامات کو سراہا۔ دونوں ممالک نے سی پیک 2.0 کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں ہم آہنگی بڑھانے، سی پیک کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا اہم منصوبہ قرار دینے اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔ تمام تنازعات اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت حل کرنے پر اتفاق کیا گیا، جب کہ بھارت کے کسی بھی یکطرفہ اقدام کی مخالفت کا اعادہ کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ چین، پاکستان اور افغانستان سہ فریقی تعاون جاری رکھنے پر متفق ہیں۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا گیا اور افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے پر زور دیا گیا۔
بھارتی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا ریکارڈ خطے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا عکاس ہے اور دہلی میں فیض الٰہی مسجد اور ملحقہ جائیدادوں کا انہدام مسلم کش مہم کا حصہ ہے، جو بابری مسجد کے انہدام کے تسلسل کی یاد دلاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاع سمیت متعدد شعبوں میں تعاون موجود ہے۔ اسحاق ڈار نے 6 جنوری کو میانمار کے وزیر خارجہ سے رابطہ کیا، جب کہ انڈونیشیا، مصر، بنگلہ دیش، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ سے بھی علاقائی و عالمی امور پر گفتگو ہوئی۔
ترجمان کے مطابق ایران کی داخلی صورتحال ایران کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان کسی بھی غیرملکی مداخلت کا مخالف ہے۔ صومالی لینڈ سے متعلق پاکستان کا مؤقف واضح ہے اور مختلف فورمز پر اس کی غیر قانونی حیثیت کی مخالفت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مخاصمانہ رویہ نہیں چاہتا اور قابلِ تصدیق، تحریری اور ٹھوس ضمانتوں پر عملدرآمد کا خواہاں ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ رواں ہفتے جموں و کشمیر کے حوالے سے یومِ حقِ خودارادیت منایا گیا، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کشمیر سے متعلق قراردادوں کی یاد دہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں انسانی حقوق اور سیاسی رہنما جیلوں میں قید ہیں، جب کہ بھارت 5 اگست 2019 کے بعد آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوشش کر رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت کے کشمیر میں یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کی گئی ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت تنازعات حل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ مذاکرات میں چین نے مسئلہ کشمیر کو تاریخی حل طلب مسئلہ قرار دیا۔











