سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ویپنگ اور ای سگریٹ کے خلاف سخت قانون سازی کی ہے، جس میں سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ‘الیکٹرانک نکوٹین ڈیلیوری سسٹم ریگولیشن بل’ پیش کیا ہے، جس میں نوجوانوں کے لیے ویپنگ اور ای سگریٹ کے خلاف سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے۔
سینیٹر سرمد علی نے بل میں تجویز دی ہے کہ تعلیمی اداروں کے قریب ویپ کی فروخت پر مکمل پابندی اور 18 سال سے کم عمر افراد کو ویپ بیچنا جرم قرار دیا جائے گا۔
بل میں مزید کہا گیا ہے کہ اسکولوں، کالجوں کے 50 میٹر کی حدود میں ویپ کی فروخت ممنوع ہوگی اور عوامی مقامات، پارکس، سرکاری دفاتر میں بھی ویپنگ پر پابندی عائد ہوگی۔
بل میں سوشل میڈیا اور ٹی وی پر ویپ کے اشتہارات پر پابندی، نکوٹین کی مقدار 40mg/ml تک محدود کرنے اور پیکنگ پر وارننگ لکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے جرمانہ اور قانونی کارروائی جبکہ آن لائن فروخت کے لیے عمر کی تصدیق کا نظام لازمی ہوگا۔ وزارت صحت نے بل کے نفاذ کے لیے جامع پلان تیار کیا ہے۔















