پاکستان انفارمیشن سروس کے افسران کو ترقی کے محدود مواقع مل رہے ہیں، وزارتِ اطلاعات نے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان انفارمیشن سروس کے 70 فیصد افسران تین دہائیوں کی نوکری کے بعد گریڈ 19 میں ہی ریٹائر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے سروس اسٹرکچر میں اصلاحات کی ضرورت کا اشارہ ملتا ہے۔ وزارتِ اطلاعات نے افسران کی کیریئر ترقی کے لیے یہ ادارہ جاتی تجزیاتی رپورٹ تیار کی ہے۔
تجزیے کے مطابق گریڈ 17 اور 18 کے افسران گریڈ 20 تک نہیں پہنچ سکتے جب تک سول سروس اسٹرکچر میں بنیادی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت نے کیریئر پروگریشن کمیٹی تشکیل دی ہے، جو تین ماہ میں سفارشات پیش کرے گی۔
اگرچہ سرکاری کیریئر اسٹرکچر گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک چھ درجات پر مشتمل ہے، تاہم تجزیے کے مطابق چار میں سے تین افسران کی ترقی گریڈ 19 پر آ کر رک جاتی ہے۔ اس وقت گریڈ 17 میں خدمات انجام دینے والے 135 افسران میں سے کوئی بھی گریڈ 20 تک پہنچنے کا امکان نہیں رکھتا، جبکہ گریڈ 18 کے تقریباً 74 افسران بھی 30 سال سے زائد سروس کے بعد گریڈ 19 میں ریٹائر ہونے کی توقع ہے۔
گریڈ 19 کے 50 سے زائد افسران گریڈ 20 تک تو پہنچ سکتے ہیں، تاہم اس کے بعد گریڈ 21 میں ترقی کے مواقع موجود نہیں ہوں گے۔ وزارتِ اطلاعات کے ایک افسر کے مطابق عملی طور پر افسران کی سروس سرکاری قواعد میں درج مدت سے پہلے ہی رک جاتی ہے۔
انفارمیشن سروس گروپ کو دیگر طاقتور سروس گروپس کے مقابلے میں امتیازی سلوک کا بھی سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض دیگر گروپس کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت نے خصوصی سیکریٹریز کے عہدے تخلیق کیے، تاہم انفارمیشن سروس گروپ کو ایسی سہولت میسر نہیں آئی۔
گزشتہ ماہ حکومت نے کیریئر پروگریشن کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن کر رہے ہیں۔ 12 رکنی کمیٹی کو تین ماہ میں سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں نئی بھرتیوں کو روکنے کے بجائے اعلیٰ سطح پر ترقیاتی ڈھانچہ وسیع کرنے کی تجویز دی گئی۔
اجلاس میں یہ بھی تجویز سامنے آئی کہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہان کے عہدے گریڈ 21 کے بجائے گریڈ 22 میں اپ گریڈ کیے جائیں۔ اس کے علاوہ وزارتِ خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور وزارتِ داخلہ سمیت 15 وزارتوں میں اسٹریٹجک کمیونیکیشن سیلز کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ کیڈر میں توسیع صرف ضرورت کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور یہ حکومت کی سول سروس کے حجم میں مزید اضافے نہ کرنے کی پالیسی سے متصادم نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم نشاندہی کی گئی کہ ماضی میں کفایت شعاری کے باوجود نئے محکمے قائم کیے گئے اور گاڑیاں خریدی گئیں، جو چند اضافی اسامیوں کے مقابلے میں زیادہ مہنگے اقدامات تھے۔
کمیٹی نے تجویز دی کہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور دیگر محکموں کے سربراہان کے عہدے گریڈ 21 سے گریڈ 22 میں اپ گریڈ کیے جائیں، اور مختلف وزارتوں میں اسٹریٹجک کمیونیکیشن سیلز کے قیام پر غور کیا جائے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم نے سول سروس اصلاحات کے لیے بھی ایک کمیٹی قائم کی ہے، مگر اب تک نمایاں نتائج سامنے نہیں آئے۔ ترقی کے محدود مواقع کی وجہ سے دیگر سروسز کے افسران میں طاقتور گروپس میں شمولیت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔














