لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ چین سمیت عالمی برادری افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق کر رہی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ چین سمیت عالمی برادری افغانستان میں دہشت گرد گروپس کی موجودگی کی تصدیق کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد خوارج ہیں اور ان کا اسلام یا کسی ثقافت سے کوئی تعلق نہیں۔
احمد شریف چودھری نے وضاحت کی کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا پاکستان، بالخصوص بلوچستان یا بلوچستانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ عناصر نہ پشتون ثقافت سے جڑے ہیں اور نہ ہی کسی مقامی شناخت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں 75 ہزار 175 آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 658 اور بلوچستان میں 58 ہزار 778 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز شامل تھے۔ مجموعی طور پر 2 ہزار 597 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 5 ہزار 397 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 27 خودکش حملے شامل تھے۔ خیبرپختونخوا میں 16 اور بلوچستان میں 10 خودکش حملے ہوئے جبکہ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں بھی ایک خودکش حملہ ہوا۔
احمد شریف چودھری نے انکشاف کیا کہ دہشت گرد افغانستان میں منصوبہ بندی کرتے ہیں اور سرحد پار سے ہدایات دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2022 میں متعدد کیسز میں ٹی ٹی پی کی قیادت شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خوارج نے مسلح کواڈ کاپٹرز اور ڈرونز کا استعمال شروع کر دیا ہے، جو مساجد اور آبادیوں کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق شام سے 2 ہزار 500 دہشت گرد افغانستان پہنچے ہیں اور خوارج اپنی کارروائیوں کی ویڈیوز ٹیلیگرام چینلز پر جاری کر کے ریکروٹمنٹ بڑھاتے ہیں۔












