پاکستان میں ویپنگ اور تمباکو کے استعمال کی آگاہی کی کمی

پاکستان میں ویپنگ اور چبانے والے تمباکو کی آگاہی کم ہے، شہری علاقے آگاہی میں زیادہ اور دیہی کم ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستان میں ویپنگ اور تمباکو کے استعمال کی آگاہی کی کمی

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں ویپنگ اور چبانے والے تمباکو کے استعمال کی آگاہی میں کمی کا سامنا ہے۔ حالیہ گیلپ پاکستان سروے کے مطابق شہری علاقوں میں ان اشیاء کے بارے میں زیادہ آگاہی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 12 لاکھ افراد ویپنگ کا استعمال کرتے ہیں، مگر صرف 17 فیصد پاکستانیوں نے الیکٹرانک سگریٹ یا ویپنگ کے بارے میں سنا ہے۔ شہری علاقوں میں آگاہی کی شرح 26 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 12 فیصد ہے۔ ویپنگ کے بارے میں آگاہی رکھنے والوں میں 26 فیصد مالدار، 24 فیصد متوسط اور 10 فیصد غریب طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔

سروے کے مطابق 60 فیصد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ ان کا ویپنگ سے کوئی ذاتی تعلق نہیں ہے، نہ خود استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی کسی ویپر کو جانتے ہیں۔ ویپنگ کے استعمال میں مردوں (10%) کا تناسب عورتوں (7%) سے زیادہ ہے۔ نوجوان طبقہ (30 سال سے کم) ویپنگ کے بارے میں زیادہ آگاہی رکھتا ہے۔

صحت کے بارے میں خیالات میں 71 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ ویپنگ دوسروں کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے جیسے سگریٹ، جس میں شہری علاقوں (87%) اور مرد (71%) زیادہ فکرمند ہیں۔ 43 فیصد جواب دہندگان ویپنگ کو عام سگریٹ سے زیادہ نقصان دہ سمجھتے ہیں جبکہ 28 فیصد نے روایتی سگریٹ کو زیادہ خطرناک قرار دیا۔

نوجوانوں میں ویپنگ کی دلچسپی کی وجہ فیشن اور ہم عمر کے دباؤ کو قرار دیا گیا ہے، 41 فیصد نے ‘فیشن/اسٹائل’ اور 25 فیصد نے ‘ہم عمر دباؤ’ کو اس کی مقبولیت کی وجہ بتایا۔ چبانے والے تمباکو کے بارے میں آگاہی بھی محدود ہے، 20 فیصد پاکستانی زردہ اور سنوز جیسے مصنوعات سے واقف ہیں۔ شہری علاقوں میں ذائقہ دار تمباکو مصنوعات نوجوانوں میں زیادہ توجہ کا مرکز ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں