لندن: نیچر کمیونیکیشنز کی تحقیق میں ٹائپ 2 شوگر کے جینیاتی عوامل کی نشاندہی سے مؤثر علاج کی امیدیں بڑھ گئیں۔
لندن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ٹائپ 2 شوگر کے مریضوں کے علاج میں امید کی نئی کرن جاگی ہے۔ نیچر کمیونیکیشنز میں شائع تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک جین کی نشاندہی کی ہے جو شوگر کی بیماری میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے مؤثر علاج کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق جین SMOC1 لبلبے میں موجود خلیات پر اثرانداز ہوتا ہے، جو خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس جین کی سرگرمی کے باعث یہ خلیات انسولین کی بجائے گلوکاگون پیدا کرنے لگتے ہیں، جس سے خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس جینیاتی عمل کو سمجھنا ٹائپ 2 شوگر کے مؤثر علاج کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے، اور مستقبل میں ایسے علاج تیار کیے جا سکتے ہیں جو بیماری کی بنیادی وجوہات کو ہدف بنا سکیں۔















