مصنوعی ذہانت کی ترقی سے اسمارٹ فونز اور اسکرینز کا خاتمہ ممکن، ماہرین کی پیش گوئی
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ٹیکنالوجی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے باعث مستقبل میں اسمارٹ فونز اور اسکرینز کا استعمال ختم ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی انقلاب ہماری روزمرہ کی زندگی کو اس قدر بدل دے گا کہ ہم اسکرینوں کی قید سے آزاد ہو جائیں گے۔
ماہرین نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں لوگ جسم میں نصب چھوٹے آلات سے بات چیت کریں گے جو فضا میں ہاتھ کے اشاروں کو سمجھ کر کام انجام دیں گے۔ اسمارٹ فون کا دور تیزی سے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت ہماری ضرورت، آواز اور ماحول کو براہِ راست سمجھنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے۔
اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے ایپل کے سابق ڈیزائنرز کے ساتھ مل کر ایک نئی ڈیوائس پر کام شروع کر دیا ہے جو اسمارٹ فون کی جگہ لے گی۔ یہ آلہ کان میں نصب ہو کر صارف کی بات اور ارادہ سمجھ لے گا۔
ٹیک ماہرین کا کہنا ہے کہ مشینوں سے براہِ راست گفتگو کا دور قریب ہے۔ گھروں میں اے آئی اسپیکرز، لباس پر ریکارڈرز، گاڑیوں اور دفاتر میں ذہین انٹرفیس عام ہوں گے۔ ایپس کھولنے کی بجائے صرف آواز دی جائے گی اور نظام خود بخود کام انجام دے گا۔
ماہرین کے مطابق، ایپل، میٹا اور مائیکروسافٹ جیسے ادارے اب بھی نئی اسکرینیں پیش کر رہے ہیں، لیکن اسکرین ایک محدود ذریعہ ہے جس سے نوجوان نسل جلد جان چھڑانا چاہتی ہے۔ تحقیق کے مطابق، 74 فیصد نوجوان اسکرینوں کو ذہنی بوجھ سمجھتے ہیں۔















