لاس ویگاس میں سی ای ایس 2026 مصنوعی ذہانت کے امکانات اور حقیقی چیلنجز کا مظاہرہ کرے گا، جہاں اے آئی کی موجودہ ٹیکنالوجی کے محدود استعمال پر توجہ دی جائے گی۔
لاس ویگاس: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سالانہ کنزیومر الیکٹرانکس شو (سی ای ایس) 2026 میں مصنوعی ذہانت کے وسیع امکانات اور زمینی حقائق کے درمیان ٹکراؤ پیش کیا جائے گا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سائنس فکشن کی مکمل خودمختار سپر انٹیلی جنس کے برعکس، موجودہ اے آئی ٹیکنالوجی ابھی تک محدود اور مخصوص کاموں تک ہی محدود ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ مصنوعی ذہانت زبانوں کے ترجمے، صحت کی نگرانی، اور اسمارٹ چشموں کے ذریعے معلومات کی فراہمی جیسے مخصوص افعال میں استعمال ہو رہی ہے۔ حتیٰ کہ انسان نما روبوٹس میں بھی اے آئی انسانی آپریٹرز کی نگرانی میں کام کر رہی ہے۔
فوریسٹر کے پرنسپل تجزیہ کار تھامس ہسن نے کہا کہ سی ای ایس 2026 میں ٹیکنالوجی کے دعوؤں اور عملی تجربے کے درمیان فرق مزید واضح ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، مگر ہارڈویئر اور توانائی کی حدود طبیعی قوانین سے جڑی ہوئی ہیں۔
اس کے باوجود توقع ہے کہ نمائش میں “اے آئی سے مزین اسمارٹ ہر چیز” پیش کی جائے گی، جن میں ٹی وی، گھریلو آلات، پرسنل کمپیوٹرز، گاڑیاں اور صحت کی نگرانی کرنے والی ڈیوائسز شامل ہیں۔ گزشتہ سال اس ایونٹ میں 142,000 سے زائد افراد نے شرکت کی تھی، جبکہ اس بار بھی ہزاروں نمائش کنندگان کی موجودگی متوقع ہے۔
ٹیکسپونینشل کے تجزیہ کار ایوی گرینگارٹ نے خبردار کیا کہ نمائش میں “اے آئی واشنگ” یعنی مبالغہ آمیز دعوے بھی ہوں گے، تاہم مشین لرننگ میں حقیقی پیش رفت پر مبنی مفید فیچرز بھی دیکھنے کو ملیں گے۔
ماہرین کے مطابق اس سال اسمارٹ چشمے زیادہ توجہ حاصل کر سکتے ہیں، جن میں میٹا اور رے بین کے اشتراک سے بننے والی ڈیوائسز شامل ہیں۔ اندازہ ہے کہ سال کے اختتام تک تقریباً 10 فیصد صارفین اے آئی پہننے والی ڈیوائسز آزما چکے ہوں گے۔
کمپیوٹرز کے شعبے میں بھی مقابلہ متوقع ہے، جہاں انٹل، اے ایم ڈی اور کوالکوم کم توانائی استعمال کرنے والے مگر زیادہ اے آئی صلاحیت رکھنے والے چِپس پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ چِپس کی قیمتوں میں اضافے سے پی سی انڈسٹری دباؤ کا شکار ہے۔
تجارتی کشیدگی کے باعث چینی کمپنیوں کی شرکت محدود رہنے کا امکان ہے۔ گرینگارٹ کے مطابق امریکی تجارتی پالیسیوں اور ٹیرف میں بار بار تبدیلیوں نے چھوٹے چینی مینوفیکچررز کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
کنزیومر ٹیکنالوجی ایسوسی ایشن کے صدر گیری شیپیرو کے مطابق غیر یقینی ٹیرف پالیسیوں نے الیکٹرانکس انڈسٹری کو شدید متاثر کیا ہے، تاہم سی ای ایس ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں صنعت کے رجحانات اور سرمایہ کاری کی سمت واضح نظر آتی ہے۔















