سپریم کورٹ کا ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے مستقل فریم ورک پر غور

سپریم کورٹ نے ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے مستقل فریم ورک پر غور کیا ہے۔ اس کا مقصد عدالتی مقدمات کے بوجھ میں کمی اور قانونی یقین دہانی میں اضافہ ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
سپریم کورٹ کا ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے مستقل فریم ورک پر غور

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں طویل عرصے سے زیر التوا اور زیادہ مالیت کے ٹیکس تنازعات کو حل کرنے کے لیے مستقل اور ادارہ جاتی فریم ورک پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، ممبر لیگل ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق، اس فریم ورک کا مقصد عدالتی مقدمات کے بوجھ میں کمی، قانونی یقین دہانی میں اضافہ اور عوامی محاصل کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ طویل ٹیکس مقدمہ بازی مالی گنجائش کو محدود کرتی ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچاتی ہے۔

اجلاس میں بروقت انصاف، موثریت اور پیش بینی کے فروغ دینے والی اصلاحات پر زور دیا گیا۔ عدلیہ نے قومی معیشت کے براہ راست متاثر ہونے والے معاملات کے لیے پختہ عزم کا اظہار کیا اور اہم مالی اثرات رکھنے والے ٹیکس مقدمات کو ترجیح دے کر تیزی سے نمٹانے کے لیے اصلاحاتی حکمت عملی پر غور کیا۔

سپریم کورٹ نے ٹیکس حکام اور نظام انصاف کے درمیان بہتر رابطہ اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحاتی حکمت عملی پر غور کیا۔ یہ اجلاس انصاف کے شعبے میں وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد گورننس میں بہتری، نظامی تاخیر میں کمی اور عدالتی عمل کو ملک کی معاشی اور ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں