سوئیڈن میں دریافت ہونے والی باقیات سے پتہ چلا کہ انسان کتوں سے پہلے بھیڑیوں کو پالتے تھے، جو 3000 تا 5000 برس پرانی ہیں۔
سوئیڈن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سوئیڈن کے جزیرے اسٹورا فورور میں دریافت ہونے والی قبل از تاریخ بھیڑیوں کی باقیات نے ماہرین آثار قدیمہ کو حیران کر دیا ہے۔ اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے محققین کے مطابق یہ باقیات 3000 تا 5000 برس پرانی ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ انسان کتے سے بہت پہلے بھیڑیوں کو پالتے تھے۔ غار میں پتھر اور کانسی کے دور کے دوران بھیڑیوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کے شواہد ملے۔
سائنسدانوں کے مطابق کتے سب سے پہلے پالے جانے والے جانور تھے، اگرچہ ان کی ابتدا کا وقت بالکل واضح نہیں ہے، مگر تخمینے 13 ہزار سے 30 ہزار برس قبل کے درمیان ہیں۔ محققین نے قدیم کتے اور بھیڑیوں کی ہڈیوں میں فرق کے ذریعے پہچان کی کہ کون سے کتے گھریلو تھے۔
ابتدائی طور پر یہ کتے بنیادی طور پر دستیاب بھیڑیے تھے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ انسان کی ابتدائی بستیوں میں پیدا ہونے والا کچرا بھیڑیوں کو کھینچتا تھا۔ جو بھیڑیے انسان کے قریب آتے لیکن جارحانہ نہیں ہوتے تھے، انہیں خوراک ملتی رہی۔
یہ تحقیق انسان اور جانوروں کے دیرینہ تعلقات کو سمجھنے میں اہم شواہد فراہم کرتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ کتے پہلی پالتو نسل کی حیثیت سے انسان کی زندگی میں شامل ہوئے تھے، ہزاروں برس قبل بھی انسان نے قدرتی شکار کو اپنے ساتھ قریب رکھنے کے لیے پالا کرتے تھے۔















