وفاقی حکومت کامقامی بینکوں سے 50 کھرب روپے قرض لینے کا منصوبہ

وفاقی حکومت نے مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے جنوری تا مارچ 2026 میں بینکاری شعبے سے تقریباً 5 کھرب روپے قرض لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
وفاقی حکومت کامقامی بینکوں سے 50 کھرب روپے قرض لینے کا منصوبہ

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وفاقی حکومت نے مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی کے دوران مقامی بینکاری شعبے سے تقریباً 50 کھرب روپے قرض لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ حکومت یہ فنڈز حکومتی سیکیورٹیز کی فروخت کے ذریعے حاصل کرے گی، جس سے مقامی بینکوں پر انحصار برقرار رہے گا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعہ کے روز پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) اور حکومتی مارکیٹ ٹریژری بلز (MTBs) کی نیلامیوں کے کیلنڈر جاری کر دیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بیرونی مالی اعانت محدود ہونے کے باعث حکومت زیادہ تر مالی ضروریات مقامی ذرائع سے پوری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں زیادہ تر قرض قلیل مدتی حکومتی سیکیورٹیز، بالخصوص MTBs کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔

اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ نیلامی کیلنڈر کے مطابق وفاقی حکومت جنوری تا مارچ 2026 کے دوران ٹریژری بلز کی فروخت کے ذریعے تقریباً 32 کھرب 50 ارب روپے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ اسی مدت میں 35 کھرب 89 ارب روپے کی میچورٹیز واجب الادا ہوں گی۔

اس کے علاوہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے ذریعے مجموعی طور پر 16 کھرب 50 ارب روپے قرض لینے کی توقع ہے، جن میں 13 کھرب 50 ارب روپے فکسڈ ریٹ PIBs اور 3 کھرب روپے ششماہی فلوٹنگ ریٹ PIBs کی نیلامیوں کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔ سہ ماہی کے دوران MTBs کی مجموعی طور پر 6 نیلامیاں شیڈول کی گئی ہیں۔

پالیسی ریٹ میں کمی کے بعد سودی ادائیگیاں پورے مالی سال کے لیے بجٹ میں مختص رقم سے کم رہنے کی توقع ہے، جس سے حکومت کو مالی خسارہ محدود رکھنے اور قرض کی مجموعی ضرورت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔


دیگر متعلقہ خبریں