جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا انتخابات کے بعد اتحاد کا اعلان

جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش نے فروری انتخابات کے بعد قومی اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے، مختلف سیاسی جماعتوں سے مذاکرات مکمل۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا انتخابات کے بعد اتحاد کا اعلان

ڈھاکہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ فروری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد قومی اتحاد کی حکومت میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں مختلف سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کر چکی ہے۔

جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ پارٹی ایک مستحکم حکومت چاہتی ہے جو ملک کو کم از کم پانچ سال تک استحکام فراہم کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں باہمی اتفاق رائے پر پہنچیں تو مشترکہ طور پر حکومت چلائی جا سکتی ہے۔

رائے عامہ کے مطابق جماعتِ اسلامی فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے بعد دوسری بڑی جماعت بن سکتی ہے۔ یہ تقریباً 17 برس بعد پہلی بار ہوگا کہ جماعتِ اسلامی کسی قومی انتخاب میں حصہ لے رہی ہے، جو ملک کی مرکزی سیاست میں اس کی واپسی کی علامت ہے۔

جماعتِ اسلامی نے بی این پی کے ساتھ دوبارہ اتحاد کی آمادگی ظاہر کی ہے، اور شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ کسی بھی اتحاد کی بنیادی ترجیح بدعنوانی کے خلاف مشترکہ ایجنڈا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اس جماعت سے ہوگا جو 12 فروری کے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرے گی۔

جماعتِ اسلامی کی سیاسی بحالی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد ممکن ہوئی۔ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے اور جماعتِ اسلامی پر عائد پابندیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔

شفیق الرحمان نے بھارت اور پاکستان کے ساتھ متوازن تعلقات کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ شفاف تعلقات ہی خطے میں بہتری کا واحد راستہ ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں