چینی سائنسدانوں نے مریخ کے شمالی علاقے میں زیر زمین پانی سے بنے آٹھ نئے غار دریافت کیے ہیں، جو مریخ پر پانی سے بنے غاروں کی پہلی مثال ہو سکتے ہیں۔
بیجنگ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چینی سائنس دانوں نے مریخ کے شمالی علاقے ہیبرس ویلیز میں آٹھ ایسے غاروں کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر زیر زمین پانی سے بنے ہیں۔ یہ دریافت مریخ پر پانی سے بنے غاروں کی پہلی مثال ہو سکتی ہے۔
اب تک مریخ پر دریافت شدہ زیادہ تر غار آتش فشانی سرگرمیوں سے منسوب تھے، لیکن یہ نئی دریافت اس تصور کو چیلنج کرتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان غاروں کی ساخت زمین پر موجود کارسٹ غاروں سے مشابہت رکھتی ہے، جو پانی میں چٹانوں کے گھلنے سے بنتے ہیں۔
یہ تحقیق 30 اکتوبر 2025 کو دی ایسٹروفزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہوئی، جس میں ناسا کے مختلف سیٹلائٹس کے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا۔ ان غاروں کے اردگرد کاربونیٹس اور سلفیٹس کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مریخ کے زیر زمین حصوں میں کبھی پانی بہتا رہا ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مریخ پر کبھی زندگی موجود تھی تو ان غاروں نے سخت موسمی حالات سے بچاؤ فراہم کیا ہوگا۔ یہ غار مستقبل کی مریخی مہمات کے لیے اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں ماضی کی زندگی کے آثار محفوظ ہو سکتے ہیں۔















