آئی ایم ایف کا ایف بی آر کی انتظامی خامیوں سے ٹیکس شارٹ فال کا انکشاف

آئی ایم ایف نے ایف بی آر کی انتظامی خامیوں کی وجہ سے گزشتہ سال ٹیکس ہدف پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی، 1.2 کھرب روپے کم جمع ہوئے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
آئی ایم ایف کا ایف بی آر کی انتظامی خامیوں سے ٹیکس شارٹ فال کا انکشاف

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے۔ آئی ایم ایف حکام نے کہا ہے کہ گزشتہ سال ٹیکس ہدف پورا نہیں ہوسکا، جس کے نتیجے میں بجٹ ہدف کے مقابلے 1.2 کھرب روپے کم جمع ہوئے۔

ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس اور درآمدی ٹیکس میں سب سے زیادہ شارٹ فال سامنے آیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے طے کردہ ریویو ہدف سے بھی 524 ارب روپے کم جمع ہوئے۔ کم مہنگائی اور کم معاشی ترقی کی وجہ سے 850 ارب روپے کی کمی ہوئی جبکہ 380 ارب روپے کی کمی انتظامی مسائل اور کمزور نفاذ کے باعث ہوئی۔

آئی ایم ایف نے ٹیکس کیسز نمٹائے جانے میں تاخیر کی بھی نشاندہی کی ہے، تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024-25 میں ٹیکس وصولی میں 26 فیصد بہتری آئی۔ دوسری جانب ایف بی آر نے بغیر جواز آمدن کم ظاہر کرنے پر قانونی کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے اور ایکسپورٹرز کے ٹیکس گوشواروں کی جانچ کا حکم دیا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں