سکھ تنظیم نے بھارت کے شمال مشرق میں نئی عیسائی ریاست ‘ٹرمپ لینڈ’ کی تجویز دی ہے، جس کا مقصد مسیحیوں پر مظالم کا ردعمل ہے۔
نئی دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارت میں سکھ تنظیم ‘سکھس فار جسٹس’ نے ایک نئی عیسائی ریاست ‘ٹرمپ لینڈ’ کے قیام کی تجویز دی ہے، جس میں شمال مشرقی بھارت کی چھ ریاستوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس تجویز کے مطابق اس علاقے کو مسیحیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنانے کا مقصد ان پر ہونے والے مظالم کے ردعمل میں ہے۔
حال ہی میں بھارت میں کرسمس کے دوران مختلف علاقوں میں مسیحی برادری پر حملے ہوئے، جن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ ان واقعات کے بعد ‘سکھس فار جسٹس’ نے ٹرمپ لینڈ کا تصور پیش کیا۔ تنظیم کے رہنما گُرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں عیسائیوں اور سکھوں پر مظالم کی بنا پر یہ تجویز دی گئی ہے۔
گرپتونت سنگھ نے واضح کیا کہ ‘ٹرمپ لینڈ’ کی تجویز کا مقصد بھارتی حکومت پر بین الاقوامی دباؤ ڈالنا ہے تاکہ مذہبی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔ بھارت نے ‘سکھس فار جسٹس’ کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور پنوں پر دہشت گردی کے الزامات ہیں۔
بھارتی حکومت نے اس تجویز پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا، مگر مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ معاملہ زیر بحث ہے۔















