2025 کا سال موسیقی میں خاموش تبدیلیوں اور تخلیقی تجربات کا رہا، جہاں فنکاروں نے سامعین اور دیرپا مقبولیت کے تصورات کو دوبارہ جانچا۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) 2025 کا سال موسیقی میں خاموش تبدیلیوں اور تخلیقی تجربات کا رہا، جہاں فنکاروں نے فارمیٹس، سامعین اور دیرپا مقبولیت کے تصورات کو دوبارہ جانچا۔
عبداللہ صدیقی نے سال بھر میں متعدد سولو ریلیز کیں جیسے ‘آئی ڈونٹ وانٹ ٹو لسن ٹو یور بیڈ میوزک’، ‘ہیومینائز’ اور ‘مدر’، جو ان کے بطور نغمہ نگار، گیت کار اور پروڈیوسر کی صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہیں۔
بلال مقصود نے بچوں کے لئے مقبول کٹھ پتلی شو ‘پکے دوست’ کے تیسرے سیزن کے ذریعے اپنی کہانی سنانے کی مہارت اور موسیقی میں جدت کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کردار پاکستانی آئیڈل میں جج کے طور پر بھی نمایاں رہا۔
کیپ مونز ریکارڈز نے متبادل موسیقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، جہاں ‘دل اکیلا’ اور ‘تیری ہی اور’ جیسی ریلیز شامل تھیں، جو مین اسٹریم فارمولے سے ہٹ کر تھیں۔
دلہے میاں نے جدید راک بینڈ کے طور پر شہرت پائی، اردو شاعری اور سماجی سیاسی موضوعات پر مبنی گیت پیش کیے۔
فریس شافی نے محدود ریلیز کے باوجود اپنی موجودگی برقرار رکھی، ان کا گانا ‘شکاری’ اور ‘شاعر’ میں شمولیت قابل ذکر رہی۔
پاکستانی فنکاروں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی موجودگی کو بڑھایا، جیسے عاطف اسلم، عروج آفتاب اور علی سیٹھی۔
حسن رحیم نے اپنے البم ‘دل کے پردے’ کے ذریعے پاپ موسیقی میں اپنا مقام مضبوط کیا۔
آزاد ریلیز عام ہوگئیں، جہاں فنکار روایتی لیبلز کے بغیر خود مختاری کے ساتھ اپنے سامعین سے براہ راست رابطہ کرنے لگے۔
جذبہ نے مختلف اصناف میں جذبات کو یکجا کیا، جس سے سننے والوں کی دلچسپی میں خلوص کا عنصر بڑھ گیا۔















