2025 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، جس دوران 2,115 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 664 سیکیورٹی اہلکار اور 580 شہری بھی جان سے گئے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، جس دوران 2,115 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اس دوران 664 سیکیورٹی اہلکار اور 580 شہری بھی شہید ہوئے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران ملک میں تشدد کی شدت اور نوعیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے باعث سیکیورٹی اشاریے گزشتہ برسوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے۔ یہ سال مجموعی ہلاکتوں کے حوالے سے گزشتہ ایک دہائی کے بدترین سالوں میں شامل رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں جنگی نوعیت کی ہلاکتیں 73 فیصد اضافے کے ساتھ 3,387 تک پہنچ گئیں۔ ان میں 2,115 دہشت گرد، 664 سیکیورٹی اہلکار، 580 شہری اور 28 حکومت نواز امن کمیٹیوں کے ارکان شامل تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دہشت گردوں کی ہلاکتیں مجموعی اموات کا تقریباً 62 فیصد بنتی ہیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شہری اموات میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔
2025 میں زخمیوں کی تعداد 2,263 رہی، جس میں 1,025 سیکیورٹی اہلکار، 982 شہری، 228 دہشت گرد اور 28 امن کمیٹی کے ارکان شامل تھے۔ دہشت گردوں کی گرفتاریوں میں 83 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اغوا کے واقعات میں 162 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پی آئی سی ایس ایس کے مطابق 2025 میں مجموعی طور پر 1,063 دہشت گرد حملے ریکارڈ ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ تھے۔ خودکش حملوں میں 53 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ چھوٹے ڈرونز اور کوآڈ کاپٹرز کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ تشدد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں رپورٹ ہوا۔ بنوں کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سجاد خان کے مطابق ضلع میں 134 دہشت گرد حملوں میں 27 پولیس اہلکار شہید اور 79 زخمی ہوئے، جبکہ جوابی کارروائیوں میں 53 دہشت گرد مارے گئے۔













