عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی معیارات امیر ممالک اور بڑی کمپنیوں کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے ترقی پذیر ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق، صدی کے آغاز سے عالمی معیارات کو تجارتی تنازعات میں بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، جو تجارتی راستوں کو تبدیل کرتے ہوئے امیر ممالک اور بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک کو نظرانداز کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک معیارات کی تشکیل میں مناسب نمائندگی نہیں رکھتے کیونکہ ان کے پاس مطلوبہ وسائل اور مہارت نہیں ہوتی۔ عالمی تجارتی معیارات کا تعین کرنے والی کمیٹیوں میں ان کی شرکت ایک تہائی سے بھی کم ہوتی ہے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق غیر محصولاتی معیارات، جیسے کیڑے مار ادویات کی تفصیلات یا لیبلنگ کی ضروریات، اب 90 فیصد عالمی تجارت پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جاپان نے معیارات کو ترقی کے لیے کیسے استعمال کیا، عالمی معیار کے مینوفیکچرر بن کر ابھرا اور معیار کی عالمی مثال قائم کی۔
رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو معیارات کو ترقی کے لیے ایک پلیٹ فارم بنانے کے لیے حکمت عملی اپنانا ہوگی، مقامی ضروریات کے مطابق ان کو ڈھالنا ہوگا، اور عالمی معیار کے فورمز میں فعال شرکت کرنی ہوگی۔















