کراچی کے نامکمل ترقیاتی منصوبے اور خراب انفراسٹرکچر شہریوں میں سانس کی بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں، حکومت کی ناکامی واضح۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کراچی میں نامکمل ترقیاتی منصوبے اور خراب انفراسٹرکچر شہریوں کے لیے صحت کے مسائل کا باعث بن رہے ہیں۔ سڑکوں کی خرابی، بند گٹر اور بڑھتی آلودگی نے سانس کی بیماریوں میں اضافہ کردیا ہے۔
سندھ حکومت 2025 تک بھی کئی اہم منصوبوں کی تکمیل میں ناکام رہی، جن میں قیوم آباد سے M-9 موٹروے تک بھٹو ہائی وے کی تعمیر شامل ہے، جو ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی۔
لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹائزیشن منصوبہ بھی 2025 میں مکمل نہیں ہو سکا جبکہ ہاکس بے اسکیم 42 میں ترقیاتی کام بھی تاخیر کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق حکومتوں کا غیر متوازن رویہ اور افسر شاہی کی رکاوٹیں ان منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کا باعث ہیں، جس سے عوامی صحت متاثر ہو رہی ہے۔
ڈاکٹر عبدالرزاق ڈوگر نے بتایا کہ نامکمل منصوبے فضائی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں، جس سے فلو، الرجی اور سانس کی دیگر بیماریوں میں 30 سے 35 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔













